سرورق / قومی / ایک شہری نے تالاب کے اطراف 400 پھلدار درخت لگائے۔بی بی ایمپی نے انہیں نکال دیا

ایک شہری نے تالاب کے اطراف 400 پھلدار درخت لگائے۔بی بی ایمپی نے انہیں نکال دیا

بنگلورو کاساونا ہلی کے رہنے والے اشوتوش شرما نے تین سال قبل کاساونا ہلی تالاب کے اطراف چار سو پھل دینے والے درختوں کے پودے لگائے تھے اور ا سکے بعد ہر دن وہ پوری جستجو کے ساتھ ان پودوں کی دیکھ بھال کرتے رہے اور انہیں جوان درختوں میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا تھا، اشوتوش کی دن رات کی محنت کے نتیجہ میں یہ تمام چار سو درخت پھل دینے کے قابل بن گئے تھے، لیکن ایک دن اچانک بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) نے راتوں رات ان تمام درختوں کو اکھاڑ دیا۔اس صورت حال سے غمزدہ اشوتوش شرما نے بتایا کہ ’’میں روزانہ چار گھنٹے ان پودوں کو پانی دینے اور ان کی دیکھ بھال کرنے میں گزارتا تھا‘‘۔ شرما نے کہا کہ ’’وہ میرے بچوں کی طرح تھے‘‘۔ شہر کی بلدیہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ سے متعلق اشوتوش کا یہ پہلا تجربہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اشوتوش شرما کو اس سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔تقریباً سات ماہ قبل ، بی بی ایم پی جو اس تالاب کے اطراف ایک ٹینک بند کی تعمیر کا کام کر رہی ہے ، اشوتوش کی طرف سے لگائے گئے کچھ پودوں کو نکال دیا تھا، اشوتوش شرما نے بتایا کہ ’’بی بی ایم پی کارندوں کی کارروائی بروقت میری نظر میں آگئی اور میں ان پودوں کو بچانے میں کامیاب رہا تھا، اسی وقت میں نے بی بی ایم پی میں اس کی شکایت بھی کی تھی‘‘۔واضح رہے کہ شرما نے کاساونا ہلی تالاب کے علاوہ دوسری دو قدرتی تالابچوں کے اطراف بھی پیڑ لگائے ہیں ۔ در اصل اشوتوش شرما مسوری کے رہنے والے ہیں اور شہر میں ملازمت کے سلسلہ میں مقیم ہیں ، انہوں نے بتایا کہ ’’اس ہفتہ چھٹیوں کے بعد جب میں اپنے آبائی وطن مسوری سے واپس لوٹا تو میں نے دیکھا کہ میرے تمام درخت جو پانچ فیٹ تک بڑے ہو گئے تھے ان تمام کو بی بی ایم پی کی زمین کھودنے والی مشینوں نے اکھاڑ دیا ہے‘‘۔بی بی ایم پی البتہ اس سلسلہ میں اپنی غلطی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، بی بی ایم پی کے شعبہ برائے جنگلات اور تالاب کے ڈپٹی کنزرویٹر ٹی جگناتھ راؤ کا کہنا تھا کہ ’’بارشوں کا موسم قریب آنے والا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم اس کام کو جلد از جلد مکمل کر لینا چاہتے ہیں جس کے ذریعہ تالاب کے اطراف بند تعمیر کیا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’اگر کوئی شخص اپنی خود کی زمین یا جائداد پر پیڑ پودے لگانا چاہے تو وہ خوشی کے ساتھ کر سکتا ہے، لیکن اس معاملہ میں یہ سرکاری زمین ہے اور یہاں پودے لگانے کے لئے کسی نے بھی ہم سے اجازت حاصل نہیں کی ہے‘‘۔راؤ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مقام پر ان پودوں کی حفاظت کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ بند کی تعمیر کے سلسلہ میں اس کے مقام تک تعمیراتی اشیاء کو مختلف گاڑیوں کے ذریعہ پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان سواریوں کے گزرنے کے راستہ پر ہی یہ تمام پودے لگائے گئے تھے۔بی بی ایم پی کے اس رویہ پر تبصرہ کرتے ہوئے علاقہ کے ایک اور مکین سنتوش نے کہا ہے کہ ’’یہ یقینی طور پر بی بی ایم پی کی مریض ذہنیت کا مظہر ہے، ایک عظیم شہری اس کام کو انجام دیتا ہے جو کہ خود بی بی ایم پی کے کرنے کا ہے اور بے شرم بی بی ایم پی اس کام کو ضائع کردیتی ہے اور اپنی غلطی کو غیر ذمہ دارانہ طور پر ضابطوں کی چادر میں چھپانے کی کوشش کرتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شہر کا بلدی ادارہ عوام کو ناکام کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتا ہے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بھونگیر حادثہ۔تلنگانہ کے وزیراعلی کا اظہار افسوس

حیدرآبادتلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے ضلع یادادری بھونگیر میں پیش آئے سڑک حادثہ …

جواب دیں

%d bloggers like this: