سرورق / خبریں / این آر سي پر سیاست نہ کرنے کی راج ناتھ کی اپیل، اپوزیشن کا واک آؤٹ –

این آر سي پر سیاست نہ کرنے کی راج ناتھ کی اپیل، اپوزیشن کا واک آؤٹ –

نئی دہلی، آسام میں قومی شہریت رجسٹریشن (این آرسي) کی دوسری فہرست میں 40 لاکھ لوگوں کے نام شامل نہیں کئے جانے کا مسئلہ آج لوک سبھا میں اٹھا، جس پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ارکان سے سیاست نہ کرنے کی اپیل کی ، لیکن ان کے جواب سے غیرمطمئن اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ وقفہ صفر کے دوران اپوزیشن کی طرف سے یہ مسئلہ اٹھائے جانے پر مسٹر سنگھ نے کہا کہ این آرسي میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سارا کام سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہا ہے. لہذا یہ الزام بے بنیاد ہے کہ حکومت جان بوجھ کر کچھ لوگوں کے نام فہرست سے ہٹا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اس فہرست میں دو کروڑ 89 لاکھ لوگوں کے نام شامل کئے جا چکے ہیں۔

جن کے نام چھوٹ گئے ہیں انہیں 28 اگست کے بعد بورڈ میں دعوے اور اعتراضات درج کرانے کے لئے دو تین ماہ کا وقت ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی اگر کوئی مطمئن نہیں ہوتا ہے تو وہ غیر ملکی شہری ٹربیونل میں اپیل کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’’کہیں نہ کہیں انصاف ضرور ملے گا‘‘۔ مسٹر سنگھ نے اسے حساس مسئلہ بتاتے ہوئے اس پر سیاست نہ کرنے کی ارکان سے اپیل کی، لیکن ان کے جواب سے غیر مطمئن کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، سماج وادی پارٹی، مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کے رکن ایوان سے باہر چلے گئے ۔
س سے پہلے وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوتے ہی ترنمول کانگریس کے سدیپ بندواپادھیائے نے این آرسي کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا’’آج صبح آسام میں قومی شہریت رجسٹریشن شائع کیا گیا جس میں تین کروڑ 20 لاکھ لوگوں کے نام شامل کئے گئے ہیں اور 40 لاکھ سات ہزار 760 لوگوں کے نام چھوٹ گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے پہلی فہرست کی اشاعت کے بعد اپنے دستاویزات
جمع کرانے کے لئے کہا گیا تھا اور انہوں نے اپنے دستاویزات جمع کرا دیئے ہیں۔ اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ اپنی تیسری فہرست کے لئے اپنے دستاویزات جمع کرا دیں. یہ 40 لاکھ لوگ کہاں جائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی غیر انسانی ہے اور وزیر داخلہ کو اس معاملہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے. ان لوگوں کو انصاف سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو حکومت اس کے لئے قانون میں ضروری ترمیم کرے۔
کانگریس کے ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ 40 لاکھ افراد کے ووٹ دینے کا حق، ان کے رہنے اور شہریت کا معاملہ ہے. جو یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں پلے بڑھے ہیں، ان سے دستاویزات مانگے جا رہے ہیں اور پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا’’کچھ لوگوں کے نام جان بوجھ کر ہٹائے جا رہے ہیں۔ آپ بڑی غلطی کر رہے ہیں، وہاں تقسیم کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے بھی قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔
مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے محمد سلیم نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے. انہوں نے حکومت پر مذہب اور زبان کی بنیاد پر تفریق کرنے کا الزام لگایا۔ راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو نے کہا کہ یہ انسانیت اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے. اس سے نفرت اور بدامنی اور تشدد میں اضافہ ہوگا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: