سرورق / خبریں / ایم بی اے کی تعلیم جو زندگی میں نئے مواقع فراہم کرتی ہے

ایم بی اے کی تعلیم جو زندگی میں نئے مواقع فراہم کرتی ہے

بنگلور، (فتحان نیوز) سالوں کی تعلیم اور تربیت کے مراحل سے گزرنے کے بعد پیشہ ورانہ زندگی کے رخ کو تبدیل کرنا بڑی ہمت کا کام ہوتا ہے مگر دنیا بھر میں بزنس اسکولوں کے فارغ طلباء نے انہیں فراہم کئے گئے بزنس پروگراموں پر خوشی کا اظہار کیا ہے جن کے ذریعہ جدید اور امید سے پرے پیشہ ورانہ مواقع کے بے شمار دروازے ان کے لئے کھلتے چلے گئے ہیں۔اسی ماہ کے اوائل میں گراجویٹ منیجمنٹ اڈمیشن کاؤنسل (جی ایم اے سی) کے ذریعہ منعقدہ ایک مطالعہ سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایم بی اے یا غیر ایم بی اے ، جامعات کے فارغین نے بزنس میں ماسٹرس کی ڈگری کا انتخاب کرنے کے سلسلہ میں تین بنیادی وجوہات کا ذکر کیا ہے، پہلا ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے معیار کو مزید بلند کرنا، خود کا اپنا کاروبار شروع کرنا اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو نیا رخ دینا۔دوسری جانب جامعاتی تعلیم کی تکمیل کے بعد صنعتی شعبہ کا انتخاب کے لئے ، مذکورہ صنعتی شعبہ میں موجود مزید مواقع کو ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔انڈین انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ بنگلور (آئی آئی ایم بی) کے سال 1992-94 کے پوسٹ گراجویشن پروگرام کے فارغ پارتھا سارتھی ایس نے اپنے تجربات کی روشنی میں اس مطالعہ کے نتائج کی توثیق کرتے ہوئے بتایا کہ وائزاک اسٹیل پلانٹ میں تین سال کام کرنے کے بعد انہوں نے آئی آئی ایم بی کے ایم بی اے پروگرام میں داخلہ لیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ’’مجھے ملازمت کی گیارنٹی حاصل تھی، مناسب معیار زندگی کا بھی میں حامل تھا اور اپنی پرسکون زندگی کے باہر مزید مواقع کی تلاش کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں تھی۔لیکن صرف دو مختصر سالوں تک آئی آئی ایم بی کے مرچنٹ بینکنگ فنکشن میں آئی ٹی سی کلاسک فائنانس کی تربیت حاصل کرلینے کے بعد میں اپنا خود کا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو گیا اور اب بیس سالوں سے نئے نئے منصوبوں کوسوچنے، ان کو نافد کرنے اور پھر نئے میدانوں کی کھوج میں کامیابی کے ساتھ لگا ہوا ہوں۔ایم بی اے نے مجھے زندگی کے وسیع منظر کو دیکھنے اور قابلیتوں اور سیاق و سباق کے محدود دائرے سے باہر نکلنے میں میری مدد کی،اس کے ذریعہ مجھے کاروباری میدان میں منضبط نقطہائے نظر کی دریافت کے بھی مواقع حاصل ہوئے‘‘۔یہ مطالعہ جس میں 46 ملکوں کی تین سو یونیورسٹیوں سے متعلق ایک ہزار ایک سو گراجویٹ بزنس اسکولوں کے 14,651 فارغین سے جوابات طلب کئے گئے تھے، اس کے ذریعہ معلوم ہوا کہ آدھے سے زیادہ (52 فیصد )افراد ایسے پیشوں کو اختیار کئے ہوئے ہیں جن سے متعلق ایم بی اے میں داخلہ سے قبل انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا، کام کے سلسلہ میں اطمینان اس مطالعہ کے فیصلہ کن امور میں سے ایک تھا اور 88 فیصد افراد نے اپنے نئے منتخب کردہ پیشہ میں اطمینان کا اظہار کیا۔اس مطالعہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ،گراجویٹ بزنس ڈگری حاصل کرنے کے بعد مختلف پیشہ وارانہ میدانوں کی جستجو میں کئی طرح کی ٹھوس مراعات بھی پائی جاتی ہیں۔بے شمار روزگار کے مواقع، تنخواہوں میں اضافہ،پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں ترقی ، نئی مہارتوں کا حصول اور نئے نئے تجربات ان میں سے صرف کچھ ہیں۔91 فیصد افراد نے جہاں یہ کہا کہ ان کا یہ انتخاب ان کے لئے ذاتی طور پر مفید رہا 75 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ اس سے انہیں اقتصادی فائدہ زیادہ ہوا۔سال 2015 میں ایم بی اے کی تعلیم مکمل کرنے والے ایک گراجویٹ نے بتایا کہ’’میں نے کمپنی کو کارخانہ پر ترجیح دی تھی، میرے شعبہ سے معلق کمپنی میں اونچے معیار کی قائدانہ صلاحیتوں کی ترقی کا پروگرام تھا، کام کا ماحول بھی میرے مزاج کے مطابق تھا اور یہاں بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی ہوا کرتی تھیں‘‘۔اس سروے میں اکثر گراجویٹس کی طرف سے اختیار کئے جانے والے مختلف پیشہ وارانہ میدانوں پر بھی توجہ کی گئی تھی۔پتہ چلا کہ ایک بڑی تعداد میں فارغین نے مالیات اور اکاؤنٹنگ(24 فیصد) کو اختیار کیا ہے، دوسرے مقام پر مارکیٹنگ اور سیلس (21 فیصد ) اور اس کے بعد جنرل مینجمنٹ (15 فیصد) کا مقام ہے۔اکثر ایم بی اے کے فراغین مارکیٹنگ اور سیلس، آپریشنس اور لاگسٹکس اور جنرل منیجمنٹ کے کاموں کو اختیار کرتے ہیں تو غیر ایم بی اے فارغین مالیات اور اکاؤنٹنگ کے علاوہ انسانی وسائل کے شعبہ جات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔سروے سے پتہ چلا کہ ہر پانچ میں سے دو افراد (39 فیصد) بزنس اسکول کے فارغین اس وقت ایسے صنعتی اداروں میں کام کر رہے ہیں جس کے تعلق سے تعلیم کے دوران انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا، لیکن اس سروے کے بعض شرکا نے کہا کہ اگر انہیں اس بات کا علم ہوتا کہ ان کی ڈگری کسی کام کی نہیں ہوگی تو وہ لوگ بزنس کی تعلیم حاصل کرنے کی جستجو ہی نہیں کرتے۔ایک جز وقتی ایم بی اے کے فارغ نے بتایا کہ ’’میں نے اس عمومی خیال کے ساتھ اس شعبہ کا انتخاب کیا تھا کہ’چلئے ایک ڈگری رکھ لینے کا کوئی نقصان نہیں ہوتا‘ اور یہ بات اب بھی درست ہی ہے‘‘۔آئی آئی ایم بی (پوسٹ گراجوئیشن پروگرام 1991-93 )کی فارغ سپنا اگروال کا کہنا ہے کہ’’میری ایم بی اے کی تعلیم نے مجھے تجربات کرنے اور مختلف ملازمتوں کے ماحول میں خود کو ڈھال لینے کے لئے تیار کیا تھا۔آئی آئی ایم بی داخلہ سے پہلے میں نے سسٹم انالسٹ کی حیثیت سے کام کیا تھاجبکہ ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر لینے کے بعدمیں، ٹکنالوجی کے شعبہ میں مختلف سیلس اور مارکیٹنگ کی ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہوں اور بڑے پیمانہ پر پراڈکٹس اور مارکیٹ سپگمنٹس کو سنبھالتی رہی ہوں۔سترہ سالوں کے دوران انٹیل اور آئی بی ایم کے بشمول چار مختلف اداروں کے بعد میں نے ایک بالکل مختلف تعلیمی میدان میں قدم رکھا تھا۔آئی آئی ایم بی کے ذریعہ ایم بی اے نے مجھے ایک وسیع فہم و ادراک کی صلاحیتوں سے آراستہ کیا جس نے مجھے اس قابل بنادیا کہ میں آسانی کے ساتھ مختلف شعبہ جات اور کاموں کو تبدیل کر سکتی ہوں‘‘۔البتہ جن لوگوں کو ان کی ڈگریوں کے بعد اپنے کام اور ملازتوں کے ذریعہ ترقی کے وافر مواقع حاصل ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ گراجویشن کے بعد ملازمت ان کے لئے ذاتی طور پر مفید رہی (93 فیصد)، پیشہ ورانہ طور پر مفید رہی (91 فیصد) اور اقتصادی طور پر مفید رہی (76 فیصد)۔جی ایم اے سی کے صدر اور سی ای او سنگیت چوفلا کا کہنا ہے کہ’’سالہا سال سے ہماری تحقیقات نے یہ واضح کیا ہے کہ منیجمنٹ میں گراجویشن کی تعلیم سے قابل قدر ذاتی، پیشہ ورانہ اور اقتصادی فوائد حاصل ہوتے ہیں، اب ہم اس بات کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ یہ ڈگری پیشہ ورانہ میدانوں کی کامیاب تبدیلی کے سلسلہ میں بھی کتنی مفید اور مؤثر ثابت ہو رہی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ’’حالیہ دنوں میں تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی ہوئی اقتصادی اور ملازمتوں کی صورت حال کے پیش نظر طلباء اس بات کا اعتماد اور بھروسہ خود پر رکھ سکتے ہیں کہ جب صنعتیں اجڑ جائیں اور دوسرے مواقع خود کو ان کے سامنے پیش کریں تو ان کے پاس ایسا علم ہوگی اور گراجوئیٹ منیجمنٹ کی تعلیم انہیں اس بات کے لئے تیار کرے گی کہ ان میں نئے حالات کا مقابلہ کرنے اور متنوع پیشہ ورانہ میدانوں کا انتخاب کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہو جائیں گی‘‘۔اس مطالعہ کے نتائج میں ایک بات یہ بھی تھی کہ سروے میں کل شریک ہونے والوں میں سے ایک ہزار پانچ سو افراد نے خود اپنی سرمایہ کاری کی ہوئی تھی اور ان میں سے اکثر مشاورتی کمپنی، پیداوار یا سروس کارخانوں کا کاروبار چلا رہے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کاروبار چاہے کتنے ہی چھوٹے یا بڑے کیوں نہ ہوں ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اس میں پچیس سے زیادہ ملازمین کی ضرورت نہیں پیش آتی، اس شعبہ سے متعلق سروے میں حصہ لینے والے اکثر افراد (82 فیصد ) کا کہنا تھا کہ وہ جو کاروبار چلا رہے ہیں اس میں پچیس سے بھی کم ملازمین کام کرتے ہیں۔خود کی اپنی سرمایہ کاری کرنے والوں میں سے 42 فیصد نے اپنے کام کے سلسلہ میں مکمل اطمینان کا اظہار کیا جبکہ صرف چار فیصد نے اس پر بے اطمینانی ظاہر کی۔سال 2011 میں کل وقتی ایم بی اے کے ایک فارغ نے بتایا کہ’’ اپنی میڈیکل کی خدمات میں ایک بہتر کاروباری ترقی حاصل کرنے کے خیال سے میں نے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی تھی تاکہ بیو میڈیکل کارپوریشنوں اور نئی شروع ہونے والی صنعتوں کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دینے کے ذریعہ مڈیکل اور صنعتی شعبوں کے درمیان رابطہ قائم کیا جا سکے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: