سرورق / خبریں / ایس ایس ایل سی کے طلبا پر بے کار کا دباؤ پری پیراٹری امتحانات کی وجہ سے طلباء پریشان-

ایس ایس ایل سی کے طلبا پر بے کار کا دباؤ پری پیراٹری امتحانات کی وجہ سے طلباء پریشان-

نگلور(پی ین ین ):۔ ایس ایس ایل سی کے طلباء سالانہ امتحانات کے لئے تیاری کررہے ہیں تو دوسری طرف ہائی اسکولس ہیڈ ماسٹرس اسوسی ایشن اور دیگر تنظیمیں دوسے تین پری پیراٹری امتحانات کرانے کے مقابلہ پر اترنے کی وجہ سے طلبا ء پر ذہنی طورپر دباؤ پڑنے لگا ہے اور والدین اس کی مخالفت کررہے ہیں اور کئی اضلاع اور تعلقہ جات میں دھرنا دے رہے ہیں جس سے پولیس کو امن اور امان ۔ نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لئے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔گذشتہ سال ایس ایس ایل سی کے پری پیراٹری امتحانات کے موقعہ پر پرانے نظام کے تحت ہی امتحانات کرانے پر کئی مشکلات کا سامنا کرناپڑاتھا ۔محکمۂ تعلیمات عامہ کو کمشنر سوجنیا نے سخت اقدامات کرتے ہوئے ہیڈ ماسٹرس اسوسی ایشن کی جانب سے سوالاتی پرچہ تیار کرانے اور امتحانات کرانے پر پابندی لگائی تھی ۔ لیکن ہائی اسکول ہیڈماسٹریس اسوسی ایشن نے پرانے نظام پر ہی امتحانات کرانے کے مقصد سے محکمۂ سے منظوری حاصل کی ہے۔ریاستی سطع پر ایک ہی طرز کا امتحان کرانے کے بجائے ۔ریاستی سطع۔ ضلع سطع او رتعلقہ سطع پر امتحانات کرانے کا فیصلہ لیا ہے ۔اسوسی ایشن کے اس اقدام سے تعلیمی نظام کو تباہ کیا جارہا ہے ۔محکمۂ تعلیمات عامہ کے سکینڈری ایجوکیشن کے ڈائرکٹر فلومینا لوبو نے کہا کہ محکمۂ نے ایک ہی طرز کا امتحان کرانے کے لئے منظوری دی ہے لیکن اسوسی ایشن کی جانب سے دو یا تین سطع کے امتحانات کرانے کا فیصلہ لیا ہے ۔یہ سب بہترین نتائج نکالنے کے لئے کیا جارہا ہے اورنجی اسکولو ں کے انتظامیہ نے بھی دو تین طرزکے امتحانات کرانے کافیصلہ لیا ہے ۔اس معاملہ میں محکمۂ کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔ اس کی مخالفت میں طلباء اور والدین احتجاج بھی کررہے ہیں۔اس معاملہ کو پولیس بھی نپٹ سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دو سے تین امتحانات کرانے کے لئے چھ سوالاتی پرچوں اورجوابی پرچوں کو فراہم کرانے کے لئے ہر ایک طالب علم سے 36 روپےئے فیس لئے جانے کا پتہ چلا ہے او رکئی نجی ہائی اسکولو ں کے عہدیدارو ں نے اسے ہی دھندہ بنالیاہے ۔ا سلئے ریاستی ۔ضلع اور تعلقہ سطع پر امتحانات کرائے جارہے ہیں ۔دوسری طرف اسوسی ایشن کے چند عہدیداران ٹیوشن مراکز کو بھی سوالاتی پرچوں کی فراہمی کے لئے ایک پرچہ کے لئے 50سے400روپیوں تک کی قیمت لے رہے ہیں ۔دوسری طرف محکمۂ تعلیمات عامہ نے ایک طرز کے امتحانات کے لئے منظوری لے کر دو سے تین طرز کے امتحانات پرپابندی لگانے کا حکم جاری کیا ہے ۔ان مختلف امتحانات کے خلاف والدین کا احتجاج جاری ہے جس سے پولیس کو نظم اور ضبط برقرار رکھنے میں پریشانی ہورہی ہے۔ دوسری طرف تمام ڈپٹی ڈائرکٹروں کو اس پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

 

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: