سرورق / بین اقوامی / ایران کے جوہری خطرے کے خلاف برطانیہ اور امریکہ ایک ساتھ: ٹرمپ

ایران کے جوہری خطرے کے خلاف برطانیہ اور امریکہ ایک ساتھ: ٹرمپ

واشنگٹن ،امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام برطانیہ اور امریکہ دونوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری خطرے سے نمٹنے کے لئے دونوں ملک مل کر کام کرنے سے متفق ہیں۔ برطانیہ کے دورے کے دوران وزیراعظم تھریسا مے کے ساتھ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بریگزٹ برطانیہ کے لئے ‘بہت زبردست موقع’ ہے اور برطانیہ جو بھی کرے، وہ میرے لئے ٹھیک ہے۔ وزیراعظم مے نے کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ ایک ‘پرعزم’ منصوبے پر بات کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے ہرصورت میں روکنا ہے اور مسز تھریسا مے بھی ان سے متفق ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے بھی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ تہران کی جوہری سرگرمیوں اور خطے میں ایرانی مداخلت پر عالمی برادری کو تشویش ہے۔ صدر ٹرمپ کے خلاف پارلیمنٹ سکوئر کے علاوہ لندن کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ دونوں رہ نماؤں نے بعض ممالک کی طرف سے دہشت گردی کی پشت پناہی کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور برطانیہ دیرینہ اتحادی ہیں۔ نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا: سن اخبار کا انٹرویو ‘عمومی طور پر ٹھیک’ تھا لیکن اس میں انھوں نے مے کے بارے میں جو مثبت باتیں کی تھیں وہ نظر انداز کر دی گئیں۔مے نے کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ خارجہ پالیسی، ممکنہ تجارتی معاہدے اور دفاع کے علاوہ ‘خصوصی تعلقات’ پر بات کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے دہشت گردی کی کچھ ناقابلِ یقین باتوں پر تبادلہ خیال کیا ہے اور انھوں نے گذشتہ رات کو بھی ڈیڑھ گھنٹے تک وزیرِ اعظم مے سے بات چیت کی تھی۔ قبل ازیں ایک انٹرویو میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے تھریسا مے کو ’بریگزٹ‘ کے بارے میں مشورے دئے تھے مگرانہوں نے ان کے مشورے نظر انداز کر دئے، اور کہا کہ اگر میں یہ کرتا تو بالکل مختلف طریقے سے کرتا۔ صدر ٹرمپ نے لندن کیپاکستانی نڑاد میئر صادق خان کی کار کردگی پر بھی شدید نکتہ چینی کی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: