سرورق / بین اقوامی / ایران نیوکلیائی معاہدہ کا حصہ رہ سکتا ہے:روحانی

ایران نیوکلیائی معاہدہ کا حصہ رہ سکتا ہے:روحانی

دوبئی، ایرانی صدر حسن روحانی نے اتوار کے روز کہا کہ اگر ایران کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے تو وہ 2015 میں ہونے والے نیوکلیائی معاہدہ کا پابند رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو اس معاہدہ سے امریکہ کی علیحدگی اخلاق اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔صدر روحانی نے سری لنکا کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ اگر باقی پانچ ممالک معاہدہ پر قائم رہتے ہیں تو ایران بھی امریکہ کی مرضی کے برخلاف اس کا پابند رہے گا۔معاہدہ سے علیحدگی کے امریکی صدر ڈونالنڈ ٹرمپ کے فیصلہ نے امریکہ کے مغربی اتحادی ممالک کو پریشان کردیا ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی صورت حال بھی غیر یقینی ہوگئی ہے ساتھ ہی مشرق وسطی میں ٹکراؤ اور تصادم کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے اس کے علاوہ ایران کے اعلی سیاسی حلقوں میں بھی اختلافات نمایاں ہونے لگے ہیں۔روحانی نے منگل کو بھی اس طرح کے مصالحانہ بیانات دیئے تھے اور سرکاری میڈیا کے مطابق ان کے وزیرخارجہ ڈاکٹر جاوید ظریف نے معاہدہ کو بچانے کی آخری کوشش کے تحت اس پر دستخط کرنے والے دیگر ملکوں کا دورہ بھی شروع کیا ہے۔
اتوار کو بیجنگ پہنچنے پر مسٹر ظریف نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ چین اور دیگر ملکوں کے اس دورہ سے ہم ایک جامع(نیوکلیائی) معاہدہ کے لئے ایک واضح خاکہ تیار کرسکیں گے۔چین کے وزیرخارجہ وانگ پی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ظریف کے دورہ سے دیگر ممالک ایران کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھیں گے اور ایران کو اپنے جائز قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں مدد ملے گی۔روحانی نے کہا ہے کہ ایران اس معاہدہ کا جس پر برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس نے دستخط کئے ہیں، پابند رہے گا مگر شرط یہ ہے کہ یہ ممالک اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایران کو ان پابندیوں سے محفوظ رکھا جائے گا جو اس کی حیثیت کے کلیدی شعبوں مثلا تیل پر عائد کی جاسکتی ہے۔تینوں یوروپی ملکوں نے بھی معاہدہ کی پابندی کا از سر نو اعادہ کیا ہے مگر مشیر رہنما آیت اللہ احمد خاتمی نے جمعہ کے دن تہران یونیورسٹی میں اپنے خطبہ میں کہا کہ یورپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔پاسداران انقلاب کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جہاں تک ایران کے مفادات کی ضمانت کا سوال ہے غیر ملکی طاقتوں پر اعتماد کرنا بڑی غلطی ہوگی۔سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محمد علی جعفری نے کہا کہ امریکہ کی علیحدگی کا مقصد ایرانی عوام کی مزاحمت کو کچلنا ہے مگر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ بعض رہنمادرون ملک امکانات صلاحیتوں پر توجہ دینے کے بجائے بیرونی دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔جنرل جعفری نے بدھ کے روز اس شعبہ کا اظہار کیا تھا کہ یوروپی ممالک نیوکلیائی معاہدہ کو بچانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ان حالات میں ملک کے سخت گیر عناصر کی شدید مخالفت کے درمیان اگر کوئی کمزور معاہدہ ہوتا ہے تو بعض تجزیہ کاروں کے مطابق روحانی کی حیثیت کمزور ہوجائے گی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: