سرورق / خبریں / اندو ملہوترا کی تقرری پر کانگریس کا ردعمل، اپنے لوگوں کو عدلیہ میں لانا چاہتا ہے مرکز –

اندو ملہوترا کی تقرری پر کانگریس کا ردعمل، اپنے لوگوں کو عدلیہ میں لانا چاہتا ہے مرکز –

نئی دہلی، اتراکھنڈ کے چیف جسٹس کے ایم جوسف کو درکنار کر کے سینئر وکیل اندو ملہوترا کی سپریم کورٹ میں جج کے طور پر تقرری کرنے سے متعلق مرکزی حکومت کا فیصلہ تنازعات کی زد میں آ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے کولیجیم سسٹم میں جسٹس جوسف کے نام پر دوبارہ غوروفکر کو لے کرکانگریس نے مرکز پر حملہ بولا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر کانگریس رہنما کپل سبل نے کہا، “ہندوستانی عدلیہ کا نظام خطرے میں ہے اور حکومت اپنے لوگوں کو عدالتی نظام میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔”
کپل سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ کے ایم جوسف سب سے قابل جج ہیں۔ تاہم مرکزی حکومت نے کولیجیم کی طرف سے بھیجے گئے ناموں میں سے شامل جسٹس جوسف کے نام پر غورو فکر نہیں کیا اور اندو ملہوترا کی تقرری کر دی گئی۔ بتا دیں کہ کولیجیم نے سینئرٹی کی بنیاد پر جسٹس جوسف کو پہلے اور ملہوترا کو دوسرے نمبر پر رکھا تھا۔
کپل سبل کا کہنا ہے کہ جسٹس جوسف نے ہی اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کے این ڈی اے سرکار کے فیصلے کو تبدیل کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس کے ایم جوسف سب سے قابل ججوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن مرکزی حکومت ان کی تقرریوں میں رخنہ اندازی کررہی ہے۔ کیونکہ مرکز کو لگتا ہے کہ وہ قابل ہی نہیں ہیں۔
دوسری جانب جج لویا کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ اس معاملے میں کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ سی بی آئی کورٹ کے جج بی ایچ لویا کی موت کی ایس آئی ٹی جانچ سے متعلق سبھی اپیلوں کو سپریم کورٹ نے خارج کردی ہے۔ پورے معاملے میں چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا نے کہا کہ اندو ملہوترا کی تقرری کے وارنٹ پر کوئی اسٹے نہیں لگے گا، اگر سرکار جسٹس جوسف کے نام پر غور کرنا چاہتی ہے، تو اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔
دوسری طرف مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کے مطابق سرکار نے سپریم کورٹ کولجیم سے جسٹس جوسف کے نام پر دوبارہ غور کرنے کی گزارش کی ہے۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکرپرساد نے پورے معاملے کو لے کر کانگریس پر ہی الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی جج جسٹس جوسف سے سینئر ہیں۔ کانگریس کا ریکارڈ سب کو معلوم ہے، جسٹس جوسف سے 41 جج سینئر ہیں۔
کولیجیم کی جانب سے بھیجی گئی لسٹ میں جسٹس جوسف کانام سب سے پہلے اور دوسرے نمبر پر اندو ملہوترا کانام تھا، لیکن مرکز نے اندو ملہوترا کے نام پر مہر لگائی، اس کے پیچھے سرکار نے منطق پیش کیا ہے کہ سینئرٹی کی بنیاد پر جسٹس کے ایم جوسف کا نمبر 42 واں ہیں، ابھی بھی ہائی کورٹ کے تقریباً 11 جج ان سے سینئر ہیں۔
کلکتہ، چھتیس گڑھ، گجرات، راجستھان، جھارکھنڈ، جموں وکشمیر، اتراکھنڈ اور کئی ہارئی کورٹ کے علاوہ سکم، منی پور اور میگھالیہ کی نمائندگی ابھی سپریم کورٹ میں نہیں ہے۔ جسٹس کے ایم جوسف کیرل سے آتے ہیں، ابھی کیرل کے دوہائی کورٹ جج سپریم کورٹ میں ہیں۔ گذشتہ کافی وقت سے سپریم کورٹ میں ایس سی ایس ٹی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ کولجیم سسٹم سپریم کورٹ کا ہی ایک سسٹم ہے۔ اگر کیرل کے ہی ایک اور ہائی کورٹ جج کی تقرری کی جاتی ہے تو یہ صحیح نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے کولجیم کی طرف سے بھیجی گئی لسٹ سے ناموں کو الگ کرنے کے فیصلے میں سی جے آئی دیپک مشرا کو پینل میں نہیں رکھا۔ مرکز نے نہ تو اندو ملہوترا کانام فائنل کرنے سے پہلے سی جے آئی سے بات کی اور نہ ہی ان سے کوئی مشورہ کیا۔حکومت کے اس یکطرفہ فیصلے سے سپریم کورٹ کے کئی جج ناراض ہیں۔ خاص طور پر وہ جج جو کولجیم کا حصہ بھی رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اندو ملہوترا کے تقرری لیٹر پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے دستخط کردیئے ہیں۔ وہ جمعہ کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف لیں گی۔

سی پی ایم نے ججوں کی تقرری میں مداخلت کے خلاف متنبہ کیا
نئی دہلی،مارکسی کمیونسٹ پارٹی(سی پی ایم) نے سینئر ایڈوکیٹ اندوملہوترا کو سپریم کورٹ کا جج کے طور پر ترقی دینے کے فیصلے کا آج خیر مقدم کیا تاہم متنبہ کیا کہ جسٹس کے ایم جوسف کی تقرری کو منظوری نہیں دینے سے ’عدلیہ کی آزاد ی‘ پر اثر پڑے گا۔ پارٹی کی پولٹ بیورو کی طرف سے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کافی تاخیر کے بعد عدالت عظمی کے لئے صرف محترمہ اندو ملہوترا کی تقرری کو منظوری دی گئی ۔ پارٹی نے اس پورے معاملے کو ججوں کے انتخا ب کے عمل میں غیر ضروری مداخلت قرار دیا اور کہا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی۔ پارٹی نے صدر سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوراً مداخلت کریں اور ججوں کی تقرری کے لئے مقررہ طریقہ کارپر عمل درآمد کو یقینی بنائیں نیز جسٹس جوسف کی تقرری کو منظوری دیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: