سرورق / خبریں / اندو ملہوترا کی تقرری پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار –

اندو ملہوترا کی تقرری پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار –

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے اندو ملہوترا کے سپریم کورٹ جج بنانے کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے اندو ملہوترا کی تقرری پر روک لگانے کی عرضی کو “ناقابل اعتماد” بتاتے ہوئے کہاکہ یہ سمجھ کے باہر ہے، ایسا پہلے کبھی نہیں سنا گیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کوئی بھی معاملے کی سنجیدگی کو سمجھ نہیں رہا ہے اور کولجیم اس بات پر غور کرے گی کہ حکومت کیسے معاملوں میں فیصلہ لے سکتی ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نمائندہ سینئر وکیل اندرا جے سنگھ، سی یو سنگھ او وکاس سنگھ نے جسٹس جوسف کی تقرری پر روک لگانے کو عدلیہ کی آزادی پر سیدھا حملہ بتایا ہے۔ اندرا جے سنگھ نے اس مسئلے کا حل نکلنے تک اندو ملہوترا کی تقرری پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔ اس پر جواب دیتے ہوئے سی جے آئی دیپک مشرا نے کہا کہ آپ یہ کیسے جانتے ہیں کہ یہ حکومت نے کیا ہے؟ اگر انہوں نے کسی نام پر غور کرنے کے لئے کہا ہے تو یہ اس کے حقوق میں ہے، اب ہم اس کی جانچ کریں گے۔ آئینی بنچ میں شامل جسٹس اے ایم کھانولکر اور ڈی وائی چندر چوڑ نے اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اگر غوروخوض کا عمل اپنا یاگیا تو ہائی کورٹ کی تقرری میں رکاوٹ آسکتی ہے۔
جسٹس چندر چوڑ نے پوچھا کہ مان لیجئے کولجیم نے ہائی کورٹ کے لئے 30 نام بھیجے۔ اگر حکومت ہمیں چاہتی ہے کہ ہم دو یا تین ناموں پر غور کریں، تو کیا انہیں دیگر ناموں پر بھی بولنے کہ ہم دو یا تین ناموں پر غور کریں، تو کیا انہیں دیگر ناموں پر بھی بولنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ سوچئے پھر تقرریوں کے لئے کیا کیاجائے گا۔ کیا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی تقرریوں کے لئے ہم الگ الگ اصول اپنائیں گے۔ اس پر جسٹس کھانولکر نے کہا کہ پہلے کافیصلے قابل قبول ہونا چاہئے۔
اس معاملے پر اتفاق ظاہر کرتے ہوئے جے سنگھ نے کہاکہ اس طرح کی علیحدگی سینئروں کے مدعوں کو بھی ا ٹھایا ہے۔ واضح رہے کہ سرکار نے سینئر وکیل اندو ملہوترا کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے اور ایسے مانا جارہا ہے کہ جمعہ کو سی جے آئی دیپک مشرا انہیں حلف دلوائیں گے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: