سرورق / بین اقوامی / امیگریشن معاملہ پر احتجاج کررہے 600 مظاہرین اور ایم پی گرفتار –

امیگریشن معاملہ پر احتجاج کررہے 600 مظاہرین اور ایم پی گرفتار –

واشنگٹن، غیر قانونی امیگریشن پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ‘زیرو ٹولرینس’ کی پالیسی کے خلاف جمعرات کو یہاں واقع سینیٹ کے دفتر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تقریبا 600 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ مظاہرین میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔ مظاہرین ہارٹ سینیٹ دفتر کی عمارت کے سنگ مرمر کے فرش پر خود کوکمبل میں لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ امریکی امیگریشن حکام کی طرف سے ان کے خاندانوں سے الگ مہاجر بچوں کو بھی ایسے ہی کمبل دئیے گئے تھے۔ مظاہرین ‘زور سے کہو‘، ’واضح کہو‘، ’تارکین وطن کا استقبال ہے‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ عمارت کے اوپر سے بڑی تعداد میں سینیٹ کے ملازمین ان کے مظاہرہ کا نظارہ کر رہے تھے۔ اس کے بعد کیپٹل پولیس نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے عمارت کو خالی نہیں کیا تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کے فورا ًبعد، چھوٹے گروپوں میں مظاہرین کو دیوار کے ساتھ کھڑا کیا گیا اور پولیس نے ان کے کملبوں اور دوسرے سامانوں پر قبضہ کر لیا۔
پولیس کو مظاہرین کو گرفتار کرنے اور مظاہرہ کو ختم کرنے میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگ گیا۔ ڈیموکریٹ کی کانگریس سنیٹر پرمیلا جے پال، جو مظاہرین کی حمایت میں بیٹھی ہوئی تھیں، کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ڈیموکریٹک سینیٹر ماجی هرونو، ٹیمی ڈک ورتھ، کرسٹن گلبرینڈ اور جیف مركلے جو ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، نے بھی کچھ مظاہرین سے بات کی۔ گلبرینڈ کے ہاتھ میں ایک تختی تھی جس پر لکھا تھا، ’اب حراست میں لینا بند کریں‘۔
ویمن مارچ کا مظاہرہ مسٹر ٹرمپ کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کا حصہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بغیر کسی اختیارکے سرحد پار کرکے آنے والے تمام بالغوں پر مئی میں مقدمہ چلانا شروع کر دیا تھا۔ بالغ رشتہ داروں کے ساتھ امریکہ میں غیر قانونی طور پر آنے والے 2،000 سے زائد بچوں کو ان کے خاندانوں سے الگ کر دیا گیا تھا اور انہیں یا تو حراست میں رکھا گیا تھا یا پھر امریکہ کے لے پالک کنبوں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن پالیسی کی نا صرف امریکہ میں بلکہ بیرون ملک میں بھی تیکھی تنقید کی گئی تھی جس کے بعد ٹرمپ کو ایگزیکٹیو آرڈر جاری کر اپنے خاندانوں سے بچھڑے بچوں کو ان کے والدین یا سرپرستوں کے پاس جانے کی اجازت دی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: