سرورق / بین اقوامی / امریکہ کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے باہر ہونے کا اعلان کونسل کے اراکین پر منافق اور اسرائیل مخالف ہونے کا الزام –

امریکہ کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے باہر ہونے کا اعلان کونسل کے اراکین پر منافق اور اسرائیل مخالف ہونے کا الزام –

واشنگٹن۔ امریکہ نے منگل کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے باہر ہونے کا اعلان کر دیا۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ کسی بھی ملک نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ہماری مہم سے جڑنے کی ہمت نہیں دکھائی، لہٰذا امریکہ اس سے باہر ہونے کا اعلان کر رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایسا کرتے وقت میں یہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ امریکہ کا یہ قدم انسانی حقوق کے عزائم سے پیچھے ہٹنا نہیں ہے ۔بی بی سی کے مطابق امریکہ کی اقوام متحدہ میں سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق ’’منافقانہ‘‘ہے اور’’انسانی حقوق کا مذاق بنا‘‘رہی ہے ۔امریکہ نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق پر اسرائیل مخالف ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کونسل کا ممبر رہنے کے فیصلے پر نظرثانی کر رہا ہے ۔اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق2006میں قائم کی گئی تھی اور کونسل کو ان ممالک کو ممبربنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جن ممالک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوال اٹھتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ایک بیان میں امریکی فیصلہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کونسل کا ممبر رہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعد الحسین نے امریکی فیصلہ کو ’’مایوس کن لیکن حیران کن نہیں‘‘قرار دیا ہے ۔ امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے تارکین وطن کو ان کے بچوں سے علاحدہ کرنے کی پالیسی کو شدید تنقید کا سامنا ہے ۔نکی ہیلی نے کونسل کی ممبر شپ چھوڑنے کا اعلان وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔نکی ہیلی نے کونسل کو ‘سیاسی تعصب کی گندگی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘میں اس بات کو بالکل واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس قدم کا مقصد انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنا نہیں ہے ۔’یاد رہے کہ گذشتہ سال نکی ہیلی نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ماننا مشکل ہے کہ اسرائیل کے خلاف قراردادیں منظور کی جاتی ہیں لیکن وینزویلا کے خلاف ایک قرار داد پر بھی غور نہیں کیا جاتا جہاں درجنوں مظاہرین کو قتل کر دیا گیا۔2006میں اس کونسل کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی جگہ قائم کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کمیشن میں ان ممالک کو ممبر بنایا گیا جن کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوالیہ نشان تھے ۔اس کونسل کے47ممبران تین سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ کونسل کا مقصد قراردادوں کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالیوں پر روشنی ڈالنا ہے تاہم اس کونسل کو بھی اس کے ممبران کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ 2013میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس وقت آواز اٹھائی جب چین، روس، سعودی عرب، الجیریا اور ویتنام کو ممبر منتخب کیا گیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بی ایس این ایل صارفین کو بہتر خدمت فراہم کرے۔ منی اپا

کولار۔ ٹیلی کمیونکیشن ، کولار ضلع صلاح بورڈ کے صدر ورکن پارلیمان کے ایچ منی …

جواب دیں

%d bloggers like this: