سرورق / بین اقوامی / امریکہ: ماں باپ سے علاحدہ کئے جانے والے تارکِ وطن بچوں کا مسئلہ کب حل ہو گا؟

امریکہ: ماں باپ سے علاحدہ کئے جانے والے تارکِ وطن بچوں کا مسئلہ کب حل ہو گا؟

واشنگٹن : ( آئی این ایس ) کئی روز سے جاری کڑی تنقید اور دباؤ کے بعد صدر ٹرمپ نے بالآخر ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت غیر قانونی طریقے سے امریکہ میکسیکو سرحد پار کرنے والے خاندانوں سے ان کے بچوں کو الگ کرنے کی پالیسی ختم کردی گئی ہے۔صدر ٹرمپ نے بدھ کو اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں “خاندانوں کو جدا ہوتے دیکھنا” اچھا نہیں لگ رہا تھا۔صدر ٹرمپ کا اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ حکم نامہ جاری کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس معاملے پر ان پر کتنا سیاسی دبا ؤ تھا۔ٹرمپ حکومت نے غیر قانونی طورپر امریکہ کی سرحد عبور کرنے والے تارکینِ وطن کے خلاف گزشتہ ماہ ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بلا اجازت سرحد پار کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کی منظوری دی گئی تھی۔پالیسی کے نفاذ کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی پہلے سے کہیں زیادہ تعداد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا جارہا تھا جس کے سبب ان کے ہمراہ آنے والے بچوں کو ان کے والدین سے الگ کردیا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران والدین سے الگ کیے جانے والے بچوں کی تعداد 2300 تک پہنچ گئی تھی جنہیں میکسیکو کی سرحد پر قائم کیے جانے والے ایک عارضی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج کیا جارہا تھا۔امریکہ میکسیکو سرحد پر بچوں کو آہنی پنجروں میں رکھے جانے کی تصویریں اور اپنے والدین کو یاد کرتے ان کی روتی بلکتی آڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد ٹرمپ حکومت کی اس پالیسی پر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں شدید تنقید کی جارہی تھی۔لیکن ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس پالیسی کو ختم کیے جانے کے باوجود بظاہر یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا اور یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ حکومت اب غیر قانونی تارکینِ وطن سے کیسے نپٹے گی؟ایگزیکٹو آرڈر کی صورت میں جاری کی جانے والی نئی پالیسی کے تحت اب غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے والدین اور ان کے بچوں کو وفاقی جیلوں میں اس وقت تک ایک ساتھ رکھا جائے گا جب تک ان کے خلاف عدالتوں میں دائر فوجداری مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔لیکن ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا سے والدین اور بچوں کو الگ الگ رکھنے کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: