سرورق / بین اقوامی / امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تاریخی معاہدہ نیوکلیائی ہتھیار مکمل طور پر ترک کرنے کا عہد –

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تاریخی معاہدہ نیوکلیائی ہتھیار مکمل طور پر ترک کرنے کا عہد –

سنگاپور۔ (یو این آئی) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان کے درمیان آج کی تاریخی ملاقات اور بات چیت ایک مشترکہ اعلامیہ کے ساتھ تکمیل کو پہنچی۔ دستخط شدہ مشترکہ اعلامیہ میں مسٹر کم کی طرف سے یہ عہد بھی شامل ہے کہ کوریائی جزیرہ کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے پاک کردیا جائے گا۔ مسٹر ٹرمپ نے بعدازاں کہا کہ امریکہ اپنی وہ فوجی مشق معطل کردے گا جو شمالی کوریا کے لئے موجب اشتعال ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ایک رعایت ہے ۔ یہ پہلا تاریخی موقع ہے جب کسی امریکی صدر اور شمالی کوریائی رہنما نے اقتدار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ملاقات کی اور ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے حکومتی ذمہ داران نے مصافحہ کرنے کے بعد بات چیت کی اور ظہرانے میں بھی ساتھ رہے جس میں ان کے مشیروں نے بھی حصہ لیا۔آج کی یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کی سوچ میں تبدیلی کی غماز رہی کیونکہ ابھی پچھلے سال ہی دونوں ایک دوسرے سے اشتعال انگیز دھمکیاں دیتے نظر آئے تھے ۔ آج کی ملاقات کا محور نیوکلیائی تحدید اسلحہ اور کشیدگی میں کمی لانا تھا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے تعلقات کے رخ پر آگے بڑھیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے ۔ امریکہ شمالی کوریا کی سلامتی کا ضامن بنے گا۔صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے چیئرمین کم جونگ ان نے کہا کہ امریکہ اور شمالی کوریا دونوں ملکوں کے عوام کی امن اور خوشحالی کی امنگوں کے مطابق از سر نو تعلقات استوار کریں گے ۔ دونوں ممالک کوریائی جزیرے میں دیرپا اور مستحکم امن کا نظام قائم کرنے کی مشترکہ کوشش کریں گے ۔اعلامیہ میں 27 اپریل 2018 کے اعلامیہ کی توثیق بھی کی گئی جس میں شمالی کوریا نے کوریائی جزیرے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے مکمل طور سے پاک کرنے کا عہد کیا تھا۔مشاہدین کو بہر حال اعلامیہ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے کی صورتوں کے تعلق سے کسی ٹھوس وضاحت کا فقدان نظر آیا۔ لیکن جب اخبار کانفرنس کا مرحلہ سامنے آیا تو مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’’اشتعال انگیز ‘‘وار گیم معطل کردے گا اور جنوبی کوریا سے امریکی فوج ہٹالی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک کوریائی خطے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سمت میں یہ ایک بڑی رعایت ہے ۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ مسٹر کم نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ میزائل داغنے کی ایک بڑی آزمائش گاہ کو تباہ کردیا جائے گا۔ صدر امریکہ نے اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ بہر حال شمالی کوریا پر جو پابندیاں عائد ہیں وہ سر دست قائم رہیں گی۔کئی نامہ نگاروں نے پوچھا کہ کیا مسٹر ٹرمپ نے مسٹر کم کے ساتھ انسانی حقوق کے مسئلہ پر بھی بات کی ہے کیونکہ شمالی کوریا میں بڑے پیمانے پر سنسر شپ ہے اور ایسے کیمپ ہیں جہاں مزدوروں سے جبراً کام لیا جاتا ہے ۔امریکی صدر نے کہا کہ مسٹر کم کو وہ انتہائی ذہن آدمی مانتے ہیں ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن بہت ذہین ہیں اور وہ انہیں وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے۔ انہوں نے یہ بات شمالی کوریا کے رہنما سے تاریخی مصافحے اور ملاقات کے بعد کہی۔دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں ایک دستاویز پر دستخط بھی کئے گئے ہیں، تاہم اس دستاویز میں درج مواد سے متعلق کوئی تفصیل فی الحال نہیں بتائی گئی ہے۔خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ہی ملاقات میں اور باقاعدہ سفارتی مذاکرات یا عمل کے بغیر ہی بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ کسی برسر اقتدار امریکی صدر کی شمالی کوریائی رہنما سے ملاقات کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اس ملاقات کے بعد شمالی کوریا روانگی سے قبل کم جونگ ان نے کہا، ’’یہ ملاقات نہایت تاریخی تھی اور دونوں ممالک نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب دنیا ایک بڑی تبدیلی دیکھے گی۔ دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کم جونگ ان کے ساتھ ’ایک خصوصی ربط‘ پیدا کر لیا ہے اور اس لیے اب شمالی کوریا ایک بالکل مختلف ملک ہو گا۔ٹرمپ نے کہا کہ لوگ اس سے متاثر ہوں گے، لوگ اس سے خوش ہوں گے اور ہم دنیا کے ایک انتہائی خطرناک مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔ ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ کم جونگ اْن کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دیں گے، تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بالکل دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ کم جونگ اْن ایک ذہین اور سخت مذاکرات کار ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: