سرورق / خبریں / اقتدار تو مل گیاکیا پانچ سال سنبھال پائیں گے

اقتدار تو مل گیاکیا پانچ سال سنبھال پائیں گے

کرناٹک کے2018ء کے اسمبلی انتخابات میں شاید پہلی بار اقتدار کی رسہ کشی دیکھنے میں ملی اور تمام ملک کی نگاہیں اس پر ٹکی ہوئی تھیں مختلف لوگوں کی مختلف قیاس آرائیاں چل رہی تھیں ایک طرف بی جے پی اور دوسری طرف کانگریس اور جنتا دل میں مقابلہ تھا بی جے پی جس کے پاس مرکز میں حکومت ہے جس کے پاس دولت ہے جس کے پاس طاقت ہے جس کے پاس ملک کی مختلف ایجنسیاں ہیں جبکہ دوسری طرف جنتا دل ایک علاقائی پارٹی ہے اور اس کے ساتھ سکڑتی ہوئی کانگریس ایسے میں سب کویہی امید تھی کہ بی جے پی اس کوشش میں کامیاب ہوگی اور کرناٹک میں بھی اقتدار حاصل کر لے گی مگر کانگریس کی بر وقت کوشش قربانی اور حرکت میں آ جانے سے بی جے پی کا یہ خواب پورا نہ ہو سکااور کانگریس اور جنتا دل کی کوشش بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے میں کامیاب ہوئی کیا کانگریس یہی قربانی آنے والے پانچ سالوں میں برقرار رکھے گی یہ کانگریس کے لئے اہم ہوگا اور اس کے لئے چیلنج بھی ہوگا ۔ پارٹی کے تمام78؍ایم یل اے کو مطمئن کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور بی جے پی کی نگاہیں اس باز کی طرح ہوں گی جہاں موقع ملے فوراًشکار کر لے یہ خطرہ صرف کانگریس کے لئے نہیں بلکہ جنتا دل کے لئے بھی ہے ان دونوں پارٹیوں کے اوپر بی جے پی کی تلوار لٹکتی رہے گی ۔
جنتا دل سے زیادہ کانگریس کے لئے کرناٹک ناک کا مسئلہ بن گیا ہے اس لئے کانگریس نے فوراً جنتا دل کے سامنے ہتھیار ڈال دئے ورنہ78؍ سیٹوں والی پارٹی کے 38؍ سیٹوں والی پارٹی کے سامنے جھکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کانگریس جوایک قومی سیاسی پارٹی ہے اس کے لئے ملک کی دوسری ریاستوں کے انتخابات بہت اہم ہیں جیسے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ جہاں اس سال انتخابات ہونے والے ہیں اس لئے کانگریس نے کرناٹک کے اقتدار کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔اگر وہ یہاں اقتدارمیں نہیں آتی ہے تو کانگریس کی ہاراور بی جے پی کی جیت مانی جائے گی اور اس کے اثرات مدھیہ پردیش، راجستھان اورچھتیس گڑھ پر بھی پڑیں گے اور کانگریس نہیں چاہتی کہ کرناٹک کی ناکامی اس سے چمٹی رہے اس لئے اس نے فوراًحرکت میں آتے ہوئے جنتا دل سے ہاتھ ملا لیا یہ اس کی دانشمندی کا ثبوت ہے ورنہ اس کی تمام کوششیں اورسیاست میں پیش ورفت ناکام ہو رہی ہے جیسے ہم گوا، منی پور ،میگھالیہ میں دیکھ چکے ہیں۔ اگر وہ حالات سے سمجھوتہ نہ کر لے تو یقیناًوہ بھارت سے مکت ہو جائے گی کانگریس نے جس طرح سے اپنی حیثیت کو سمجھا کاش وہ الیکشن سے پہلے جنتا دل سے اتحاد کرلیتی توآج کانگریس کی ساکھ بھی برقرار رہتی اور زبردست کامیابی ملتی اور چیف منسٹر بھی کانگریس کا ہوتا کیونکہ کانگریس اور جنتادل کے اتحاد سے ریاست کرناٹک میں150؍سیٹوں سے زیادہ پر قبضہ ہو سکتا تھا کانگریس اور جنتادل کی 116؍سیٹوں کے علاوہ جہاں وہ دونوں بی جے پی سے ہارے وہاں ان دونوں کے ووٹوں کو ملایا جائے تو اس سے اندازہ لگ جاتا ہے وہ کتنے سیٹوں پر مزید کامیابی حاصل کر سکتے تھے ۔
کمار سوامی کے چیف منسٹر بننے کے بعد جو تبدیلیاں دونوں پارٹیوں کے ایم یل اے میں آسکتی ہیں اس پر بی جے پی کی گہری نظر ہوگی کیونکہ کانگریس اور جنتادل کااپنے تمام ممبروں کو مطمئن کرنا ممکن نہیں ہے اور بی جے پی کے لئے ان ممبروں سے رابطہ حاصل کرنا بھی آسان ہوگا۔ اگر ایم یل اے پارٹی اور اصولوں کے پکے ہوں تو کوئی بھی انھیں خرید نہیں سکتااور آج کے دور میں وفا داری اور ایمانداری شاذ و نادر ہی دیکھنے میں ملتی ہے۔اگر کانگریس اور جنتا دل2019ء تک بھی کامیابی کے ساتھ کرناٹک کی حکومت چلاتے ہیں تو کانگریس کی بہت بڑی جیت مانی جائے گی اور اگر دیکھا جائے تو کرناٹک میں کانگریس کی اس ہار کے بعد کرناٹک کے تمام بڑے لیڈر وں کو اس ہار کا پچھتاوا ہو رہا ہے سدا رامیا کے تیور بھی نرم پڑ گئے ہیں ڈی کے شیو کمار جو کبھی دیوے گوڈا اور کمار سوامی کے کٹر حریف تھے آج کمار سوامی کے ساتھ شیو کمار خوش خوش نظر آ رہے ہیں ۔**

Leave a comment

About saheem

Check Also

شیشے کی کھڑکیوں پر سے اشتہارات ہٹانے بی ایم ٹی سی کا فیصلہ مسافروں نے راحت کی سانس لی –

بنگلور۔بی ایم ٹی سی بسوں کی دونوں جانب کھڑکیوں کے اوپر لگائے جانے والے اشتہارات …

جواب دیں

%d bloggers like this: