سرورق / بین اقوامی / افغان بحران -’مکہ اعلامیہ اسلامی اقدار پر مبنی امن و امان کا شرعی حل پیش کرتا ہے –

افغان بحران -’مکہ اعلامیہ اسلامی اقدار پر مبنی امن و امان کا شرعی حل پیش کرتا ہے –

جدہ ، ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان پر دباؤ بنانئے کیلئے امریکہ اب سعودی عرب کواستعمال کررہاہے۔اس سے پہلے وہ خود بھی کوشش کرچکا ہے ۔گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ افغان طالبان کو افغان سر کار سےامن کیلئے گفت و شنید کرنی چاہئے۔ اسی سلسلہ میں اب سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی علما کانفرنس کے اختتام پر ’مکہ اعلامیہ‘ جاری کیا گیا ہے جس میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کر کے براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔ شہزادہ خالد الفیصل نے اس کانفرنس کی سربراہی کی۔ کانفرنس کے اختتام پر او آئی سی کے سربراہ يوسف بن احمد العثيمين کا کہنا تھا کہ یہ اعلامیہ افغانستان میں جاری بحران کے پر امن حل کا شرعی حل پیش کرتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق اس اعلامیہ میں افغانستان میں موجود گروہوں سے جنگ بندی کر کے تشدد، تفرقے اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا’ ’ہم افغان حکومت اور طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک معاہدہ کریں اور مذاکرات کا اغاز کریں‘‘۔
شاہ سلمان افغانستان میں قیام امن کے لیے سعودی عرب اور او آئی سی کے اقدام سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا نیا باب کھلے گا۔
اس سے پہلے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ افغانستان کے طالبان نے شاید پہلی مرتبہ اسلامی ملک سعودی عرب کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک سخت بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ وہ ایک اسلامی ملک اور ان کے علما سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ ’کفر اور اسلام کی جنگ میں وہ امریکہ جیسے حملہ آوار کا ساتھ دے گا۔‘
سعودیوں سے ناراضی کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے افغانستان میں امن سے متعلق دنیا بھر کے علما کی اپنی نوعیت کے پہلے اجلاس کا انعقاد ہے جس میں پہلے تو لڑائی کے خلاف فتوے کی توقع تھی لیکن اب محض اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
طالبان کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ پہلے پاکستان اور بعد میں افغانستان میں وہاں کے علما کی جانب سے اپنے اپنے ممالک میں لڑائی اور پرتشدد کارروائیوں کا غیراسلامی قرار دینا بھی ہے۔
اس سے خدشہ ہے کہ افغان طالبان کا لڑائی کو جہاد قرار دینے کا جواز چھین لیا جانا ہے۔ یہ طالبان کے لیے یقیناً اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہوگا۔
تقریباً ساڑھے آٹھ سو الفاظ پر مشتمل اپنے طویل بیان میں طالبان نے افغانستان میں جاری 17 سالہ مزاحمت کو ’جہاد‘ سے تعبیر کیا اور کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ ان کے ’جہاد‘ کو فساد کے الفاظ سے پکارے اور نہ وہ ایسا کرنے دیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی کانفرنس کو ان کی ’جائز جدوجہد‘ کی حمایت کرنی چاہیے جیسے کہ وہ پہلے کرتے آئے ہیں۔
سعودی عرب میں منعقد اس کانفرنس میں اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ایک درجن علما نے بھی حصہ لیا۔
اس کانفرنس کے دعوت نامے میں افغانستان میں جاری مزاحمتی کارروائیوں کو دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس میں ملوث افراد کو غیرقانونی مسلح گروہ اور جرائم پیشہ افراد کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔
طالبان کے سب سے حامی سمجھی جانے والی سعودی حکومت اور افغان عسکریت پسندوں کے درمیان کچھ عرصہ سے تعلقات کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔
کابل میں تعینات ایک سعودی سفارت کار نے کچھ عرصہ قبل افغانستان میں جاری مسلح کارروائیوں کو ’دہشت گردی‘ سے تعبیر کیا تھا جس پر طالبان کی طرف سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ خیال ہے کہ سعودی عرب کی ایک عرصے تک مالی معاونت بھی ملتی رہے تھی۔
اسلام آباد میں مقیم افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ طالبان ہمیشہ سے اپنی مزاحمت کو ’جہاد‘ کہتے آئے ہیں اور ماضی میں کئی اسلامی ممالک بشمول سعودی عرب اس جہاد کی حمایت بھی کرتے آئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب جیسا ملک جسے تمام اسلامی دنیا میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے، اگر وہ اس مزاحمت کو اسلامی نہیں کہیں گے تو یقینی طور پر اس سے طالبان کا جو ‘جہادی بیانیہ’ ہے وہ کمزور پڑے گا۔
تاہم بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور طالبان کے مابین حالیہ تناؤ کی وجہ صرف ‘جہادی بیانیہ’ کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات بھی ہیں جس میں افغانستان کے اندر ایران کا تیزی سے بڑھتا ہوا اثرو رسوخ اور شاید طالبان کا ان کے قریب ہونا بھی ہے۔
افغانستان پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی سمیع یوسف ز ئی کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران اور افغان طالبان میں قربت بڑھتی جا رہی ہے جس سے بظاہر سعودی عرب ناراض نظر آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب قطر میں طالبان کا دفتر بن رہا تھا تو اس وقت سعودی عرب نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ طالبان ان کے ملک میں آکر سیاسی دفتر کھولیں اور اس ضمن میں طالبان کا ایک گروپ آمادہ بھی ہوا تھا لیکن بعد میں اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے قطر سے بھی تعلقات کشیدہ ہیں شاید اس وجہ سے تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سمیع یوسف زئی نے مزید کہا کہ افغان طالبان اپنے جاری ‘جہاد’ کے حوالے سے تمام باتوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور شاید اس وجہ سے ان کا ردعمل قدرے سخت آیا ہے۔
سینئر صحافی اور جیو ٹی وی کے اینکر حامد میر کا کہنا ہے کہ نوے کی دہائی میں بھی سعودی عرب نے اسامہ بن لادن کے ایشو پر افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی اور ان کو دہشت گرد قرار دیا تھا لیکن طالبان نے اس وقت بھی ان کی کوئی بات نہیں مانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اب یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب امریکہ کا غلام ہے اور یہ سب کچھ انہی کے کہنے پر کیا جا رہا ہے۔
تاہم سعودی عرب میں جاری تبدیلی کی پالیسی کا بھی اس میں عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ نوجوان سعودی ولی عہد کی قیادت میں جو نئی اقتصادی اور سماجی اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں ان میں امریکہ کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گا۔ ایسے میں سعودی عرب کا جھکاؤ امریکہ کی جانب زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
افعان طالبان کے لیے جہاں میدان جنگ میں دولت اسلامیہ جیسی مشکل تو میدان سیاست میں علماء کے فتووں اور اعلانات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ بظاہر طالبان کے ساتھی اپنی اپنی مصلحتوں کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: