سرورق / خبریں / اسمبلی انتخابات کے نتائج اور بی جے پی کی رسوائی

اسمبلی انتخابات کے نتائج اور بی جے پی کی رسوائی

اﷲ تعالیٰ کی قدرت بڑی بلند اوروسیع ہے قرآن مجید وفرقان حمید میں جو اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے اس میں بالکل صداقت ہے وہ واقعی ’’ان اﷲ علیٰ کل شیء قدیر ہے ‘‘ یقیناًوہ ہر چیز پر قادر ہے اورقدرت والا ہے وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اورجسے چاہے ذلت اوررسوا کرتا ہے ۔ وہ بڑا حکمت والا اورشان وشوکت والا ہے ۔وہ صرف انسان کی نیت دیکھتا ہے اگر نیت میں خلل اندازی ہے تو انسان کیلئے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنا محال اور دشوار ہے ۔ جیسا کہ کہاوت ہے “Man Purposes God desposes” ہرانسان کے لئے اﷲ پاک کی ذات پر مکمل بھروسہ ہونا لازمی اورضروری ہے۔ سچائی ،صداقت کبھی نہ کبھی رنگ لاتی ہے مگر ہم میں صبرواستقلال کاہونا بے حد ضروری ہے ۔کیونکہ “God Almighty Sees the truth but wait” انسانوں کی جلدبازی وعجلت کبھی کامیاب نہیں ہوتی ہے ۔کیونکہ Haste Makes Wasteویسے اسمبلی انتخابات 12مئی کو عمل آئے اور ان کے نتائج 15؍مئی 2018 ء کو منظرعام پر آئے۔ جملہ 222 ؍ اسمبلی نشستوں میں سے بی جے پی 104 ،کانگریس 78 جے ڈی ایس 38 اوردیگر 2۔ بی جے پی اور ایڈی یورپا کی عجلت اور جلدبازی نے ان کے تمام ارادوں کو نیست ونابود کردیا۔الیکشن جس دن ہوا اس کے کئی دن پہلے سے ہی پارٹی کے تمام لیڈرس دعویٰ کررہے تھے کہ ہم 100 ؍فیصد کامیابی حاصل کریں گے اور ایڈی یورپا نے کہاتھاکہ میں جمعرات کے دن یعنی 17 ؍مئی 2018 ء وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھاؤں گا۔لہٰذا ان کی خواہش اس وقت پوری ہونے سے رہ گئی جب 55؍ گھنٹے کے اندر ان کی حکومت گرگئی۔ حلف برداری کے بالکل بعد چند آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں کے تبادلے کردئے جو بالکل خلاف قانون تھے ۔کسانوں کے قرضے معاف کردئے گئے ۔اورچیف سکریٹری سے رپورٹس طلب کئے گئے یہ اندھی نگری چوپٹ راج تھا اور وزیر اعلیٰ کی آفس کے اندرجاکر اپنے نام کاپلیٹ لگادیا گیا اورسیٹ کی پوجا وغیرہ کی گئی اورآفس بیررس کو اڈریس کیا اور بی جے پی کے لوگوں کے نعرے بازیاں میٹھائیاں اورجشن بڑے اعلیٰ پیمانے پر منائے گئے جبکہ بی جے پی کے 104 ؍ایم ایل اے تھے ۔ابھی انہیں 9 ؍ایم ایل ایس کی ضرورت تھی ۔ 113 ؍ اکثریت کی ثابت کئے بغیر ایڈی یورپا وزیراعلیٰ بن گئے ۔ یہ انڈین آئین کی بالکل خلاف کارروائی تھی اوریہ گورنر وجوبھائی والا کی سراسر غلطی تھی اور یہ بالکل انڈین آئین اور جمہوریت کی خلاف کارروائی تھی۔لہٰذامجبوراً جب کانگریس اور جے ڈی ایس سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تو سپریم کورٹ نے ہفتہ کی شام 4بجے تک بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی تو بی جے پی پارٹی افراتفری کے عالم میں آگئی اور کانگریس ایم ایل ایس اور جے ڈی ایس ایم ایل ایس کو ٹیلی فون کے ذریعہ بی جے پی کا Horse Trading تجارتی دھنداشروع ہوگیا ۔ اورفی رکن اسمبلی کی قیمت 150 ؍کروڑ سے 200 ؍کروڑکی پیش کش ایم ایل ایس کو دیا گیا تھا۔ بی جے پی کے مرکزی اور ریاستی لیڈرس اسی جدوجہد میں لگ گئے ۔ ادھر 19 ؍مئی 2018 ء کو کے پی سی سی دفتر کے روبرو ریاستی گورنر وجوبھائی والا کے فیصلہ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں کانگریس لیڈران غلام نبی آزاد، ملیکارجن کھرگے ،سدارامیا ،سلیم احمد ،منی اپا ،روشن بیگ اور دیگرنے جیت کا نشان دکھاتے ہوئے بہت زور سے احتجاج کیا اور ودھان سودھا میں گاندھی جی کے مجسمہ کے قریب تمام کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈروں نے بیٹھ کر عالیشان احتجاج کیا اور گورنر کے خلاف نعرے لگائے۔ جدوجہد بہت زوروں پر رہی اورکامیاب رہی اس احتجاج میں پارٹیوں کے لیڈر سابق وزیر اعظم دیوے گوڈا ، غلام نبی آزاد، سدارامیا ،کمارسوامی، ڈی کے شیوکمار، روشن بیگ، کھرگے ،پرمیشور ،دنیش گنڈوراؤ وغیرہ شامل تھے ۔سپریم کورٹ نے ایڈی یورپا حکومت کو اسمبلی میں4؍بجے 19 ؍مئی 2018 ء کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی تھی۔جسٹس اے کے سیکری جسٹس ایس اے بوبڈے اورجسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کانگریس جے ڈی ایس کو اتحاد کی درخواست پر آج یہ عبوری حکم دیا ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے ریاست کی بی جے پی حکومت کی طرف سے خفیہ ووٹنگ کرانے کو مرکزی حکومت کی درخواست مسترد کردی تھی ۔ایڈی یورپا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ریاستی کابینہ نے 19 ؍مئی کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے اسمبلی اجلاس طلب کرنے گورنر سے سفارش کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں صد فیصد یقین ہے کہ ایوان میں اکثریت ثابت ہوجائے گی ان کو یہ قوی امید تھی ۔ اکثریت ثابت کرنے ایڈی یورپا نے ایک ہفتہ کا وقفہ طلب کیا تو گورنر نے اپنی طرف سے 15؍ دن کا وقفہ دیا تھا ۔سپریم کورٹ نے اپنی طرف سے فوراً 19 ؍مئی 2018 ء کو اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا ۔ لہٰذا سیاسی ڈرامہ ختم ہونے کا آخری دن تھا ۔ریاست کرناٹک میں بی جے پی کو آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدنے میں بری طرح شکست ہوئی جبکہ جمہوریت اور انڈین آئین کی فتح ہوئی کانگریس اور جے ڈی ایس کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑگئی۔ اور قریب ڈھائی دن کے وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے ریاستی اسمبلی میں تحریک اعتماد کا سامنا کرنے سے پہلے ہی وزیراعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کردیا اور گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے گورنر آفس روانہ ہوگئے۔ بی ایس ایڈی یورپا اورگورنر وجو بھائی والا دونوں کی کارروائیاں غیرجمہوری اورانڈین آئین کے خلاف تھے جس کا ذکر کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور بی جے پی کاسیاسی ڈرامہ انتہائی ذلت ورسوائی کے ساتھ ختم ہوا۔ بی جے پی کے لیڈروں میں ضرورت سے زیادہ جھوٹ اور خصوصاًمسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں رہا ۔کرناٹک کی جملہ 224 ؍سیٹوں میں کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دی گئی ۔بی جے پی کے جھوٹے پروپیگنڈے فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنا تو ان کا مشغلہ ہے۔مسلمانوں کے مذہبی مسائل میں اسلام کے اندرونی مسائل میں خواہ مخواہ کی مداخلت کرنا ان کا نصب العین ہے ۔ مسلمانوں کو دانشمندی سے کام کرنا ہے اپنے مذہبی مسائل میں ان کو مداخلت کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ ان چیزوں کے مدنظر ہم ویژن کرناٹک سکیولر پارٹیوں میں مہاگٹھ بندھن رائج کرنے کی غرض سے ہماری جدوجہد جاری رہی اور الحمدﷲ! آج کانگریس اور جے ڈی ایس میں مہاگٹھ بندھن قائم ہوا اورشاندارکامیابی دونوں پارٹیوں کو حاصل ہوئی۔یہ سکیولرزم کی کامیابی ہے یہ جمہوریت کی کامیابی ہے ۔یہ انڈین کانسٹی ٹیوشن کی کامیابی ہے اور حقیقتاً یہ تمام اقلیتوں کی شاندارکامیابی ہے ۔خدا کرے کہ اسی طرح ہمارے دیش کی تمام مستحکم سیاسی پارٹیاں آپس میں میل ملاپ کے ساتھ مہاگٹھ بندھن قائم کریں تو انشاء اﷲ آنے والے 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دے سکتے ہیں۔یہی ایک عالیشان فارمولا ہے ۔اس کی ابتداء ابھی سے ہونی چاہئے اور بہت جدوجہد اوردانشمندی کی ضرورت ہے ۔
مونارک ہوٹل انفنٹری روڈ میں مورخہ 30-10-2017 کا دن ہمارے وزن کرناٹکا کی میٹنگ شری کمارسوامی اوران کے پارٹی لیڈروں میں ہوئی تھی بہت سے مشورے طے ہوئے اورکمارسوامی نے اپنی تقریر میں ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہماری پارٹی اقتدارمیں آئی تو میں یقیناًایک نائب وزیراعلیٰ کا پوسٹ مسلمان کو دوں گا۔یہ میرا وعدہ ہے اور ہرگز آئندہ کسی صورت میں بی جے پی سے میں ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔لہٰذا ہماری درخواست ہے کہ مسلمان کو نائب وزیراعلیٰ کا پوسٹ دیا جائے گا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: