سرورق / خبریں / اسلام کی سر بلندی اور مسلمانوں کے مسائل کے حل کی دعائیں یوم القدس اور یوم کشمیر کے موقع پر کشمیر میں ریلیاں ، سری نگر اور اننت ناگ میں جھڑپیں-

اسلام کی سر بلندی اور مسلمانوں کے مسائل کے حل کی دعائیں یوم القدس اور یوم کشمیر کے موقع پر کشمیر میں ریلیاں ، سری نگر اور اننت ناگ میں جھڑپیں-

سری نگر،  (یو ا ین آئی ) وادی کشمیر میں ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس اور یوم کشمیر کے طور پر منایا گیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد وادی کی مساجد، خانقاہوں، زیارت گاہوں اور امام باڑوں سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور قبلہ اول کی آزادی کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ اِن ریلیوں میں شامل لوگوں جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرس اٹھا رکھے تھے ، قبلہ اول کی آزادی کے لئے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کو ناگزیر قرار دیا۔ ریلیوں کے شرکاء کی جانب سے فلسطین اور کشمیر کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔ جمعتہ الوداع کی مقدس تقریب اور یوم القدس کے سلسلے میں سب سے بڑے اجتماعات کشمیر کی مرکزی جامع مسجد سری نگر اور آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئے جن میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے ہزاروں فرزندان توحید، مردو زن اور پیر وجوان نے شرکت کی اور اللہ تبار ک و تعالیٰ کے حضور انتہائی عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام کی سربلندی ، ملت کے جملہ مسائل کے حل کے لئے دعائیں مانگیں۔کشمیر میں جمعتہ الوداع کی تقریب حسب سابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے پروگرام کے مطابق یوم القدس اور یوم کشمیر کے بطور منائی گئی ۔ اگرچہ یوم القدس اور یوم کشمیر کے سلسلے میں نکالے جانے والی بیشتر ریلیاں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں، تاہم سری نگر کے نوہٹہ اور جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ریشی بازار میں احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر کے نوہٹہ میں واقع مرکزی جامع مسجد اور قصبہ اننت ناگ کے ریشی بازار میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی نوجوانوں نے بیت المقدس اور کشمیر کی آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی شروع کردی، تاہم جب احتجاجی نوجوان سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کے مرتکب ہوئے تو انہوں نے ردعمل میں آنسو گیس کے گولے داغے ۔ طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ قریب ایک گھنٹے تک جاری رہا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے بیشتر علاقوں میں یوم القدس اور یوم کشمیر کے سلسلے میں نکالے جانے والی ریلیاں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں۔ ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اسرائیل کی بیت المقدس پر غاصبانہ قصبے کے خلاف اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے مطالبے میں تقاریریں کیں۔ مقررین نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے دعائیں بھی کیں۔ اس دوران مزاحمتی قیادت کی طرف سے اجراء ایک مشترکہ پروگرام کے تحت وادی کے طول وعرض میں واقع بڑی بڑی مساجد، خانقاہوں اور امام باڑوں میں ایک قرارداد کی عوام الناس سے تائید کرائی گئی، جس میں فلسطین اور کشمیری عوام پر ہو رہے مظالم اور ان دونوں دیرینہ تنازعوں کے حل کے تئیں عالمی برادری کی عدم توجہی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ان دونوں مسئلوں کو ان کے تاریخی تناظر میں حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے ۔یوم القدس منانے کا آغاز ایران میں امام خمینی (رح)نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ ہی کیا تھا۔ علماء کا کہنا ہے کہ امام خمینی (رح) کا مقصد فلسطینیوں کے لئے عالم اسلام کی یکجہتی کے لئے عالمی دن مقرر کرنا تھا کیونکہ فلسطین کے مسئلے کو لیکر وہ بے حد فکر مند تھے اور اس کو مسلمانان عالم کا مشترکہ مسئلہ سمجھتے تھے ۔جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ مولوی عمر فاروق نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی بھر پور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی بربریت اور جارحیت کے نتیجے میں مظلوم فلسطینی عوام جن مسائل اور مظالم کا سامنا کررہے ہیں ۔ یہ عالمی برادری خصوصاً مسلم امہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دینے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ میرواعظ نے اس موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے یوم قدس اور یوم کشمیر کے حوالے سے مرتب کردہ قرارداد پیش کرکے عوام سے تائید حاصل کی۔ قرار داد میں کہا گیا کہ یہ اجتماع قبلہ اول مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دنیا کے بااثر مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ او آئی سی پر زور دیتا ہے کہ وہ قبلہ اول کی بازیابی اور فلسطینی عوام پر ہو رہے مظالم کو بند کرانے کے لئے آگے آئیں۔ قرار داد میں کہا گیا کہ یہ اجتماع اعلان کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اب یہ حقیقت تسلیم کرچکی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات تب تک بہتر نہیں ہو سکتے اور نہ اس خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکتا ہے جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق حق خودارادیت کی بنیاد پر حل نہیں کیا جاتا اس لئے یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے خلوص، سنجیدگی اور سیاسی جرأتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بامعنی اقدامات کا آغاز کرے ۔ دریں اثنا حریت کانفرنس (گ) کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ یوم القدس اور یوم کشمیر کے حوالے سے مسجد حمزہ لالچوک سری نگر میں حریت راہنما مولوی بشیر عرفانی اور امتیاز احمد شاہ، مسجد اقراء سری نگر میں عمر عادل ڈار، سید امتیاز حیدر، رمیز راجہ اور اشفاق احمد کے علاوہ جامع مسجد کرہامہ گاندربل میں محمد یوسف نقاش نے مزاحمتی قیادت کی طرف سے جاری کردہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو اپنے تاریخی تناظر میں حل کئے جانے اور دونوں خطوں میں صہیونی اور بقول ان کے ہندوستانی حکومت کی طرف سے ظلم وتشدد اور قتل وغارت گری کے حوالے سے جاری کردہ قراردادوں کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے ان کی تائید وتوثیق کرائی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: