سرورق / خبریں / اتفاقی حادثات سے بنگلور میں ہر 36گھنٹہ میں ایک بچہ کی موت –

اتفاقی حادثات سے بنگلور میں ہر 36گھنٹہ میں ایک بچہ کی موت –

بنگلور۔دنیا بھر میں روزانہ تقریباً دو ہزار خاندان رنج و غم کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے گھر کا ایک معصوم بچہ غیر ارادی طور پر زخمی ہونے۔۔۔یا دوسرے الفاظ میں ’’اتفاقی حادثہ‘‘ کا شکار ہو کر۔۔۔ ہلاک ہو جاتا ہے حالانکہ اس اتفاقی حادثہ کو روکا جا سکتا تھا۔جب کوئی بھی بچہ پانچ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو غیر ارادی حادثات اس کی زندگی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوتے ہیں، بڑی تعداد میں اموات کے علاوہ یہی اتفاقی حادثات اکثر بچوں میں معذوریوں کے پیدا ہونے کا سبب بھی بنتے ہیں۔بنگلور انجیوری سرویلنس پروگرام کے سالانہ ڈیٹا کے مطابق پچھلے سال اتفاقی حادثات کا شکار ہونے والے5509بچوں کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا تھا جن میں سے 209بچے ہلاک ہو گئے، اس طری ہر27غیر جان لیوا حادثات کا شکار ہونے والے بچوں میں سے ایک ہلاک ہوا ہے۔لڑکیوں کے مقابلہ میں مرنے والے لڑکوں کی تعداد تین گنا زیادہ رہی ہے۔ حادثہ کا شکار ہونے اور مرنے والے بچے عام طور پر درمیانہ سماجی و اقتصادی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ بچے اسکول جانے والے بھی تھے۔بنگلور شہر میں ہر36گھنٹہ میں ایک بچہ اتفاقی حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد انتقال کر جاتا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں کوئی بھی واحد ایسی بیماری نہیں ہے جس کے نتیجہ میں اتنے اموات ریکارڈ کئے جا رہے ہوں۔گھروں میں عام طور پر پیش آنے والے حادثات میں سب سے زیادہ عمومی سبب کہیں سے گرجانا ہوتا ہے ،دوسری وجوہات میں سے کسی زہریلی شئی کا نگل جانا، آگ یا گرم پانی کی وجہ سے جل جانا، پانی میں ڈوب کر مرنا وغیرہ شامل ہیں۔بعض بچے اس وقت زخمی ہوجاتے ہیں اور یہ زخم کئی مرتبہ مہلک بھی ثابت ہوتے ہیں ، جب وہ کوئی نئی صلاحیت حاصل کرنے کے لئے کسی نئے فن کے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے سائیکل چلانا یا کوئی سواری چلانا سیکھنا وغیرہ، کسی بڑے بچہ سے متعلق چیز کے استعمال کی کوشش کے دوران بھی ایسے حادثات پیش آ سکتے ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اتفاقی حادثات کو روکا جا سکتا ہے اگر گھر کے بڑے احتیاط کرلیں اور بچوں کی مسلسل نگرانی کرتے رہیں،ایسے بہت سارے مواقع ہوتے ہیں کہ گھروں کے اندر اور باہر ہم اپنے بچوں کو حادثات سے بچاسکیں، مگر والدین کی بے احتیاطی ہی ان حادثات کی وجہ ہوتی ہے اور بچے زخمی یا ہلاک ہو جاتے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: