سرورق / خبریں / اب مرکزی حکومت کو دینی مدارس کی بھی فکر ہونے لگی مدرسہ بورڈ کے ساتھ مدارس کا لازمی الحاق قابل قبول نہیں:رحمٰن خان

اب مرکزی حکومت کو دینی مدارس کی بھی فکر ہونے لگی مدرسہ بورڈ کے ساتھ مدارس کا لازمی الحاق قابل قبول نہیں:رحمٰن خان

نئی دہلی؍بنگلورو: لوک سبھا انتخابات کے لئے صرف دس ماہ رہ گئے ہیں۔ مرکزی بی جے پی حکومت کو اب مسلمانوں اور مدارس کی فکر ہونے لگی ہے۔ اس لئے مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل مدرسہ تعلیم میں تبدیلی کے منصوبہ پر غور وخوض کرنے لگی ہے۔ اس کے پیچھے وزارت کا مقصد یہ ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء کو اچھی اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے۔ اس منصوبہ کے تحت دینی مدارس کا مدرسہ بورڈ یا پھر اسٹیٹ بورڈ سے الحاق لازمی ہوگا۔ ایچ آر ڈی کے ذرائع کے مطابق تمام ریاستی حکومتوں نے اس سلسلہ میں تجاویز بھیج دی ہیں۔ مرکز ان تجاویز کا مطالعہ کررہاہے۔ یہ تجاویز مرکز کے منصوبہ کے لئے مقرر کئے گئے پلان پر مبنی ہیں۔ ذرائع نے بتایاہے کہ ایس پی کیو ای ایم کا مقصد مدرسہ کی تعلیم میں اصلاح کرناہے اور ان مدارس میں زیر تعلیم طلباء کو ملک کے دیگر طلباء کی طرح عام موضوعات کی تعلیم دینا ہے۔ مرکزی حکومت کا یہ منصوبہ ہے کہ دینی مدارس کے مدرسہ بورڈ اور اسٹیٹ اسکول بورڈ سے الحاق کو لازمی بنایا جائے۔ اس تبدیلی کے تحت جی پی ایس کی مدد سے حکومت ملک بھرمیں دینی مدارس کی نشاندہی بھی کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اس کے لئے وزارت مدارس کی یونیک نشاندہی کو لازمی بنانے کا منصوبہ بھی بنارہی ہے۔ تاکہ جی پی ایس کی مدد سے ان کی لوکیشن کو آسانی کے ساتھ ٹریس کیاجاسکے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال وزارت نے ایس پی کیو ای ایم کے تحت آنے والے مدارس سے اپنی جی پی ایس لوکیشن شیئر کرنے کے لئے کہاتھا اور جن مدارس نے جی پی ایس تفصیلات نہیں دی تھیں ان کے اساتذہ کی تنخواہیں روک دی گئی تھیں۔
رحمٰن خان کا رد عمل: ملک میں دینی مدارس کو مدرسہ بورڈ یا اسٹیٹ بورڈ سے الحاق کو لازمی کرنے مرکزی حکومت کے منصوبہ پر سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کے رحمٰن خان نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آج یہاں بنگلور میں کہاکہ اگر مدارس کو مدرسہ بورڈ یا اسٹیٹ بورڈ سے الحاق کو مرکزی حکومت نے لازمی قرار دیا تو اس کی ملکی سطح پر مخالفت ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے پچھلے برسوں میں مدارس کو نشانہ بنایا اور بدنام کیاتھا کہ مدارس میں دہشت گرد بستے ہیں۔ لیکن ثابت نہیں ہوا۔ ملک کے ایک بھی مدرسہ میں دہشت گرد پایا نہیں گیا۔ اب اچانک بی جے پی حکومت مدارس سے متعلق فکر مند ہے تو اس کی نیت پر شک وشبہ ہونا لازمی ہے۔ اگر مرکزی حکومت واقعی مدارس کی تعلیم کو معیاری بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے تو پہلے اس کا تفصیلی ڈھانچہ جاری کرے۔ پھر اس پر مسلم دانشوروں اور ملک کے مؤقر علماء کرام سے مشورہ کرے اور مدارس سے متعلق ڈھانچہ کو علماء کرام اور دانشوروں کے سامنے رکھے تو اس پر مسلمان غور کرسکتے ہیں۔ مدارس کے مدرسہ بورڈ یا اسٹیٹ بورڈ کے ساتھ الحاق کو لازمی قرار دینا ہمیں قابل قبول نہیں۔ اگر مرکزی حکومت کو مدرسہ بورڈ بناناہی ہے تو جس طبقہ کے لئے یہ بورڈ بنایا جارہاہے اس طبقہ کے دانشوروں سے پہلے مشورہ کرے۔ ملک میں لوک سبھا انتخابات صرف 8، 10؍مہینے ہیں۔ اس وقت اچانک اس طرح کے اعلانات سے مرکزی حکومت کی نیت پر شک ہونے لگتا ہے۔ رحمٰن خان نے بتایاکہ ماضی میں میرے ہی ایک سوال پر جواب دیتے ہوئے بی جے پی قائد ایل کے اڈوانی نے کہاتھا کہ ملک کے 20؍مدارس کو ہم نے نشانہ بنایا تھا، ان میں کہیں بھی ایک بھی دہشت گرد پایا نہیں گیا۔ ان تمام حالات کو ملک کے مسلمان ابھی بھولے نہیں ہیں۔ اس لئے مرکزی حکومت کو مدارس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل علماء کرام اور مسلم دانشوروں سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: