سرورق / خبریں / آصفہ عصمت دری و قتل، صدر جمہوریہ نے کہا ’ ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں جارہے ہیں‘ –

آصفہ عصمت دری و قتل، صدر جمہوریہ نے کہا ’ ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں جارہے ہیں‘ –

کٹرہ (ریاسی) ، صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کوند نے ضلع کٹھوعہ میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے وحشیانہ عصمت دری اور قتل واقعہ پر اپنی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں جارہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ جیسے واقعات کا پیش آنا شرمناک بات ہے۔ صدر جمہوریہ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے چھٹے جلسہ تقسیم اسناد سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’بچوں کا محفوظ ہونا سماج کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہر بچے کو تحفظ دینا اور اس کی حفاظت یقینی بنانا، کسی بھی سماج کی پہلی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ملک کے کسی نہ کسی کونے میں، کہیں نہ کہیں، ہمارے بچے آج گھناونی حرکتوں کے شکار ہورہے ہیں۔ حال ہی میں اس ریاست میں ایک معصوم بچی ایسی بربریت کا شکار ہوئی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے‘۔ انہوں نے کہا ’ ملک کو آزاد ہوئے 70 برس ہوگئے ہیں۔ لیکن آج بھی اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا شرمناک بات ہے۔ ہم سبھی کو سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ ہم کیسا سماج بنا رہے ہیں؟ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسے سماج کی تعمیر کررہے ہیں جس میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو انصاف اور تحفظ کا احساس ملے؟‘۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایسے واقعات کو روکنا ملک کے ذی حس شہریوں کا اخلاقی فرض ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں کسی بھی بیٹی یا بہن کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ ملک کے بیشتر شہری ملک کی بیٹیوں اور بہنوں کے تئیں اپنی ذمہ داری کو نبھائیں گے‘۔ بتادیں کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔
کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ آصفہ کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق آصفہ کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ آصفہ کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: