سرورق / خبریں / آصفہ آبروریزی و قتل معاملہ: جموں بار ایسوسی ایشن نے سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ واپس لیا –

آصفہ آبروریزی و قتل معاملہ: جموں بار ایسوسی ایشن نے سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ واپس لیا –

جموں ، جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چوطرفہ تنقید کے بعد آصفہ عصمت دری و قتل کیس کی قومی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی سے تحقیقات کا اپنا مطالبہ واپس لے لیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ بی ایس سلاتھیا کا کہنا ہے کہ چونکہ اب یہ معاملہ پوری طرح سے عدالت میں آگیا ہے، اس لئے بار ایسوسی ایشن نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ بتادیں کہ بار ایسوسی ایشن گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے آصفہ کیس کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کررہی تھی۔
بار ایسوسی ایشن کی شہ پر کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن اور ینگ لائرز ایسوسی ایشن سے وابستہ درجنوں وکلاء نے پیر کے روز چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی اور ہلڑبازی کرکے کرائم برانچ کے عہدیداروں کو آصفہ کیس کا چالان عدالت میں پیش کرنے سے روک دیا۔ ہلڑبازی کے اس واقعہ کے بعد احتجاجی وکلاء تنظیمیں شدید تنقید کی زد میں آگئی تھیں۔
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر راکیش گپتا نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں آصفہ کیس کی بات کرتے ہوئے کہا تھا ’ اس سفاکانہ جرم میں جو لوگ ملوث ہیں، اُن کو کیفرکردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ ہمیں اسے کوئی فرقہ وارانہ ایشو نہیں بنانا چاہیے۔
بار ایسوسی ایشن کے صدر کو پتہ ہونا چاہیے کہ کرائم برانچ جو تحقیقات کررہا تھا، اس کو ہائی کورٹ روزانہ کی بنیاد پر مونیٹر کررہا تھا‘۔ چوطرفہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد بار ایسوسی ایشن صدر ایڈوکیٹ سلاتھیا نے بدھ کے روز یہاں نامہ نگاروں کو بتایا ’کٹھوعہ واقعہ (آصفہ کیس) میں چونکہ چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے، اب ہم اس کیس کی لڑائی قانونی طور پر عدالت میں لڑیں گے۔ یہ معاملہ اب ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں رہا ہے۔ ہم اس وجہ سے کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے کہ کرائم برانچ کی طرف سے کی جارہی تحقیقات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھی۔ کرائم برانچ بے گناہوں کو اس کیس میں پھنسا رہا تھا‘۔ْ

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: