سرورق / کھیل / آئی پی ایل: دہلی ڈیئر ڈیویلس کا مقابلہ مضبوط پنجاب سے کل –

آئی پی ایل: دہلی ڈیئر ڈیویلس کا مقابلہ مضبوط پنجاب سے کل –

نئی دہلی، دو مرتبہ کے آئی پی ایل فاتح کپتان گوتم گمبھیر اور رکی پونٹنگ جیسے کھلاڑی کو کوچ رکھ کر میدان میں اترنے والی دہلی ڈئیر ڈیولس کی ٹیم ٹورنامنٹ کے 11 ویں ایڈیشن میں ایک کے بعد ایک ہار کا سامنا کررہی ہے اور اب اسے اپنی قسمت تبدیل کرنے کے لئے صرف اپنے گھر کا سہارا رہ گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اسے گیل کی شکل میں طوفان روکنا ہوگا۔ دہلی کو پیر کو اپنے گھریلو فیروز شاہ کوٹلہ میدان میں گمبھیر کی ٹیم کنگز الیون پنجاب سے کھیلنا ہے اور ٹورنامنٹ میں رہنے کے لئے اسے ہر حال میں یہ میچ جیتنا ہوگا۔پنجاب کی ٹیم جہاں پانچ میں سے چار میچ جیت کر چوٹی پر ہے وہیں دہلی کی ٹیم پانچ میں سے چار میچ ہار کر آٹھ ٹیموں میں سب سے پھسڈی ہے۔
دہلی کے کپتان گمبھیر اور کوچ پونٹنگ نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ اس بار وہ دہلی کی قسمت بدلیں گے اور اسے جیت کی پٹری پر لے آئیں گے لیکن ابھی تک ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے اور دہلی کی وہی لٹی پٹی حالت ہے جو پچھلے ورژن میں تھی۔کولکاتا کو دو بار چمپئن بنانے والے گمبھیر آٹھ سال بعد واپس دہلی لوٹ آئے، کپتانی سنبھالی لیکن نہ تو وہ کپتانی سے اور نہ ہی بلے سے دہلی کی حوصلہ افزائی کر پا رہے ہیں۔
دوسری طرف پنجاب کی ٹیم نئے کپتان اور آف اسپنر روی چندرن اشون کی قیادت میں بالکل تبدیل نظر آ رہی ہے اور گزشتہ کچھ میچوں میں اس نے غضب کا مظاہرہ کیا ہے اور کرس گیل کی واپسی نے تو جیسے پنجاب میں جوش کی لہر بھر دی ہے۔گیل گزشتہ تین میچوں میں ایک سنچری اور دو نصف سنچری بنا چکے ہیں۔ دہلی کا پنجاب سے اس کے گھریلو میدان موہالی میں مقابلہ ہو چکا ہے جہاں دہلی کو سات گیند باقی رہتے چھ وکٹ سے ہار کھانی پڑی تھی۔اس میچ میں دہلی نے سات وکٹ پر 166 رن بنائے تھے جبکہ پنجاب نے چار وکٹ پر 167 رن بنائے تھے۔ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اس مقابلے میں پنجاب کی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔گیل گزشتہ تین میچوں میں پنجاب کی طرف سے کھیلے اور تینوں ہی میچوں میں انہوں نے میچ فاتح بہترین اننگ کھیلی ہیں اور دو بار مین آف دی میچ رہے ہیں۔
دہلی کو اپنے گھریلو میدان میں گیل کو تو روکنا ہی ہے ساتھ ہی اپنی بلے بازی میں بھی بہتری کرنا ہے۔بیٹنگ میں کپتان گمبھیر کو اپنی کارکردگی سے اپنی ٹیم کو متحرک کرنا ہے جیسے وہ کولکتہ کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔دہلی نے کل رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف 174 رنز تو بنائے تھے لیکن اس اسکور میں شراکت صرف دو بلے بازوں رشبھ پنت اور شريس ایئر کی رہی تھی۔ اگر کچھ دوسرے بلے بازوں نے زور لگایا ہوتا تو دہلی کا اسکور 200 تک جا سکتا تھا۔
شريس ایئر نے 52 اور رشبھ پنت نے 85 رن بنائے۔ایئر نے 31 گیندوں کی اننگز میں چار چوکے اور تین چھکے لگائے۔پنت نے 48 گیندوں میں چھ چوکے اور سات چھکے اڑائے۔ان دو بلے بازوں کو چھوڑ دیا جائے تو باقی کا حال بہت برا رہا۔جیسن رائے پانچ، کپتان گوتم گمبھیر تین، گلین میکسویل چار اور راہل تیوتيا 13 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔بلے بازی کی اگر یہ حالت رہی تو پھر جیتنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔
دہلی کو ٹورنامنٹ میں اب تک جو واحد کامیابی ملی ہے وہ جیسن رائے کی ناٹ آؤٹ 91 رنز کی اننگز کی بدولت ملی تھی اور پھر اس نے ممبئی انڈینس کو شکست دی تھی۔دہلی کو فتح حاصل کرنے کے لئے اسی طرح کے کسی کرشمہ کی ضرورت ہے۔
کوئی ایک کھلاڑی کسی ٹیم کی قسمت کس قدر تبدیل کر سکتی ہے اس کی سب سے بڑی مثال کیریبین طوفان کرس گیل ہے جو نیلامی میں تیسرے راؤنڈ میں جاکر خریدے جانے کا غصہ دوسری ٹیموں پر اتار رہے ہیں۔گیل (ناٹ آؤٹ 62) اور لوکیش راہل (60) نے تابڑ توڑ انداز میں کھیلتے ہوئے پنجاب کو کل کولکاتا کے خلاف بارش سے متاثرہ مقابلے میں نو وکٹ سے جیت دلائی تھی۔
پنجاب نے ڈک ورتھ لوئیس قانون کے تحت ملے 125 رن کے ہدف کو 11.1 اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر 126 رنز بنا کر حاصل کر لیا تھا۔آئی پی ایل میں سب سے تیز نصف سنچری بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کر چکے راہل نے 27 گیندوں پر نو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 60 رن بنائے اور ساتھ ہی مین آف دی میچ بھی بنے۔ راہل اور گیل نے پہلے وکٹ کے لئے 9.4 اوور میں 116 رن کی میچ فاتح ساجھےداری کی۔ گیل نے چھکا لگا کر میچ ختم کیا۔گیل نے 38 گیندوں پر ناٹ آوٹ 62 رن میں پانچ چوکے اور چھ چھکے اڑائے اور مسلسل تیسری بار پچاس سے زائد کا اسکور بنایا۔
گیل کی ان تین اننگز کے بعد ٹیم کی مشترکہ مالکن پریٹی زنٹا ان کی زبردست فین ہو گئی هیں گیل چنئی کے خلاف 63 اور سنرائزرس حیدرآباد کے خلاف ناقابل شکست 104 رنز بنا چکے ہیں۔ دہلی کو اگر پنجاب کے خلاف جیت کی امید کرنی ہے تو گمبھیر اور پونٹنگ کو گیل کو جلد نمٹا دینے کی حکمت عملی تیار کر لینی ہوگی۔ دونوں ہی ٹیموں نے میچ کی شام پر کوئی پریکٹس نہیں کی اور نہ ہی اپنے کسی کھلاڑی کی پریس کانفرنس رکھی۔دونوں ٹیموں نے ایک دن پہلے میچ کھیلنے کی وجہ سے آج آرام کرنا مناسب سمجھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

وزیر کھیل راٹھور سے ملے لکشے سین –

نئی دہلی، جونیئر ایشیائی بیڈمنٹن چمپئن شپ میں 53 سال کے طویل وقفے کے بعد …

جواب دیں

%d bloggers like this: